دوشنبه ٢٥ تير ١٣٩٧ صفحه اصلی|آرشیو اخبار|مقالات پژوھشی|فارسي|اردو
 
صفحه اصلی|مقالات پژوھشی|صفحه اصلی|ايران|اسلام|زبان و ادبيات فارسی|سوالات متداول|تماس با ما|پيوندها|نقشه سايت
Title
iran
نقش برجسته داریوش - تخت جمشید شیراز
ورود
نام کاربری :   
کلمه عبور :   
 
متن تصویر:
[عضویت]
NewsletterSignup
نام :   
ایمیل :   

اھل بيت اور ترويج اذان كي كيفيت

اھل بیت اور ترویج اذان كی كیفیت

 

جب ھم اذان كي مشروعيت كے بارے ميں اھل بيت عليھم السلام كي روايتوں كو ديكھتے ھيں تو وہ مقام و منزلت نبوت سے سازگار نظر آتي ھيں- جب كہ گذشتہ احاديث، مقام رسالت سے ميل نھيں كھاتي تھيں-

حضرت امام جعفر صادق عليہ السلام فرماتے ھيں: "جب جبرئيل عليہ السلام اذان لے كر نازل ھوئے تو نبي اكرم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم كا سر اقدس علي عليہ السلام كي آغوش ميں تھا- جبرئيل نے اذان اور اقامت كھي- جب رسول اللہ صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم متوجہ ھوئے تو امير المومنين عليہ السلام سے فرمايا: "اے علي (ع)! تم نے سنا؟ آپ نے فرمايا: جي ھاں، يا رسول اللہ! رسول اكرم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم نے فرمايا: كيا تم نے حفظ كرليا؟ فرمايا: جي ھاں- نبي اكرم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم نے فرمايا: بلال (رض) كو بلاۆ اور ان كو سكھاۆ- آپ نے بلال (رض) كو بلايا اور اذان و اقامت كي تعليم دي-" 37

مذكورہ روايت اور وسائل الشيعہ كي پھلي روايت (عن ابي جعفر عليہ السلام قال لما اسري رسول اللہ صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم الي السماء فبلغ البيت المعمور و حضرت الصلاة فاذن جبرئيل عليہ السلام واقام فتقدم رسول اللہ صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم وصف الملائكة والنبيون خلف محمد صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم 38 ميں اختلاف صرف يہ ھے كہ پھلي روايت ميں جبرئيل عليہ السلام نافلہ بجا لانا چاھتے تھے ليكن دوسري روايت كے مطابق جبرئيل عليہ السلام نافلہ، رسول اكرم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم سے بيان كرنا چاھتے تھے- اسي لئے ھم ديكھتے ھيں كہ آپ نے حضرت علي عليہ السلام سے فرمايا كہ بلال كو بلاۆ اور اذان و اقامت كي تعليم دو-

اس نظريہ كي تائيد وہ روايتيں بھي كرتي ھيں جن كو عسقلاني نے ذكر كيا ھے- اور ان كي سندوں كے بارے ميں مناقشہ كيا ھے- وہ كھتا ھے: ان احاديث كے مطابق، اذان مكہ ميں ھجرت سے پھلے شروع ھوئي- انھيں روايتوں ميں سے طبراني كي روايت بھي ھے جو سالم بن عبداللہ بن عمر بن ابيہ كي سند سے مروي ھے- انھوں نے كھا: جب رسول اكرم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم كو معراج ھوئي تو خدا نے آپ (ص) پر كلمات اذان كي وحي كي- جب آپ (ص) معراج سے واپس آئے تو بلال كو اس كي تعليم دي- اس كي سند ميں طلحہ بن زيد ھے جو كہ متروك ھے- وہ روايات جنھيں عسقلاني نے نقل كيا ھے، اذان كي تشريع كے سلسلہ ميں اھل بيت عليھم السلام كے موقف (نظريہ) كے صحيح ھونے اور اذان كي بنياد عبداللہ بن زيد يا عمر بن خطاب كے خواب كو قرار ديئے جانے كے نادرست ھونے پر دلالت كرتي ھيں- جيسا كہ چھٹے امام عليہ السلام سے روايت ھے كہ آپ (ع) نے ان لوگوں پر لعنت كي ھے جو يہ خيال كرتے ھيں كہ نبي اكرم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم نے اذان عبداللہ بن زيد سے لي- آپ (ع) نے فرمايا كہ وحي، نبي صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم پر نازل ھوتي تھي پھر بھي تم يہ گمان كرتے ھوكہ آپ (ص) نے اذان كو عبداللہ بن زيد سے ليا ھے؟ 39

الف) عسقلاني نے بزار كے حوالہ سے حضرت علي عليہ السلام سے روايت كي ھے كہ آپ (ع) نے فرمايا: جس وقت خداوند عالم نے يہ ارادہ كيا كہ اپنے نبي صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم كو اذان كي تعليم دے تو جناب جبرئيل عليہ السلام ايك سواري كے ذريعہ آپ (ص) كے پاس آئے، جس كو براق كھا جاتا ھے- آپ (ص) اس پر سوار ھوئے… - 40

ب) ابو جعفر امام محمد باقر عليہ السلام سے حديث معراج كے سلسلہ ميں روايت ھے كہ … پھر آپ نے جبرئيل عليہ السلام كو حكم ديا اور انھوں نے اذان اقامت كھي- اور اذان ميں "حي علٰي خير العمل" پڑھا- پھر محمد صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم آگے بڑھے اور قوم كے ساتھ نماز پڑھي- 41

ج) امام جعفر صادق عليہ السلام نے فرمايا: جب رسول اللہ صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم كو معراج ھوئي اور اذان كا وقت ھوا تو جناب جبرئيل عليہ السلام نے اذان كھي- 42

د) عبد الرزاق نے معمر سے، انھوں نے ابن حماد سے، انھوں نے اپنے والد سے، انھوں نے اپنے دادا سے اور انھوں نے پيغمبر اسلام صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم سے حديث معراج كے سلسلہ ميں روايت كي ھے كہ… پھر جبرئيل كھڑے ھوئے اور اپنے داھنے ھاتھ كي انگشت شھادت كو اپنے كان پر ركھ كر دو دو فقرے كر كے اذان كھي- آخر ميں دوبار "حي عليٰ خير العمل" كھا- 43

حوالہ جات :

37. وسائل الشيعہ، حر عاملي: 4/ 612، باب اذان و اقامت، حديث نمبر: 2

38. وسائل الشيعہ، حر عاملي: 5/ 369، ابواب الاذان والاقامة، حديث نمبر: 1 مترجم

39. وسائل الشيعہ، حر عاملي: ج4، ابواب الاذان والاقامہ، حديث نمبر /3

40. فتح الباري في شرح البخاري: 2/ 87، مطبع: دار المعرفہ لبنان

41. وسائل الشيعہ، حر عاملي: ج4، باب اذان و اقامت، باب /9، ص/3

42. مصدر سابق، ج10

43. سعد السعود: 100، بحار الانوار: 81/ 107، جامع الاحاديث الشيعہ: ج/2، ص

 

بشکریہ عرفان ڈاٹ  آئی آر

 

 


 

 

متعلقہ تحریریں:

جنتي غذا اور بي بي زہرا( س)  کا وجود مبارک

حضرت امام حسن عسکري کي امامت کا دور

جستجو
جستجوی پیشرفته جستجوی وب
banners
فارسی داخلہ 2018

اسلامک سکولز

معرفی سعدی آموزش

یازدھمین جشنوارہ رسانہ ھای دیجیتال

جایزه جهانی اربعین

اسلام کمیکز

فراخوان اعظای نشان سعدی و اقبال

ھمائش حلال

مذہبی تعلم مصطفیٰ یونیورسٹی

داخلہ دانشگاہ یزد

دانشگاہ تہران

دانشگاہ الزھرا (س)

کتابخانہ دیجیتال سازمان

نامہ رہبر معظم بہ نوجوانان غربی

اوقات شرعی

سایت رایزنی فرہنگی

Ashnayi ba lahore

darbarha

majala 23,1391

libraries

kfpics

live ziaraat

Imam Khumeini

dafter Khamnaee

akhbaraat

farsi link

تبریز 2018
vote
نظرسنجي غير فعال مي باشد
UsersStats
Visitorsofpage: 967
Visitorsofday : 85
Visitorsofpage : 1598696
Onlinevisitors : 3
PageLoad : 1.5000

مقالات پژوھشی|صفحه اصلی|ايران|اسلام|زبان و ادبيات فارسی|سوالات متداول|تماس با ما|پيوندها|نقشه سايت